اوباما کی جانب سے اس دعوت کا مقصد بھی یہی ہے کہ عرب اتحادیوں کو یہ باور کروایا جائے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاہدے سے امریکہ اور اُن کا تاریخی اتحاد کمزور نہیں پڑے گا۔
لیکن سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کی آخری لمحات میں دعوت میں شرکت کے انکار سے واشنگٹن اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کھل کر سامنے آئی ہے۔
وائٹ ہاؤس پر اُن کا عدم اتحاد اُس وقت بڑھا جب صدر اوباما نے بہار عرب کے آغاز پر ہمدردانہ ردعمل کا مظاہرہ کیا اورشام میں جاری لڑائی میں امریکہ کی براہ راست شمولیت نہ کرنے سے وہ ناراض بھی ہے۔
اب خطے میں فرقہ ورایت بڑھنے اور سنی اور شیعوں کی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فضا میں عرب رہنما ایران کے معاہدے پر اور زیادہ چوکس ہو گئے ہیں۔
اُنھیں خدشہ ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں ختم ہونے سے ایران طاقتور ہو گا اور وہ شام، عراق، لبنان اور یمن میں شیعہ ملیشیا کو زیادہ تعاون فراہم کرے گا۔اس لیے انھیں اپنی سکیورٹی کے لیے زیادہ ٹھوس ضمانتیں چاہیے۔
واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے کہا کہ ’ماضی میں ہم نے زبانی کلامی معاہدے پر گزارہ کیا ہے لیکن میرے خیال میں اب کچھ تحریری طور پر کچھ ہونا چاہیے جو بنیاد اصولوں پر ہو۔‘
مشرق وسطیٰ کے امور پر صدر اوباما کے نمائندہ ے روبرٹ میلے نے کہا کہ ’وہ یہ سننا چاہتے ہیں کہ اُن کی حفاظت کرنے کے لیے ہم موجود ہیں۔‘
امریکہ میں ہونے والے اس اجلاس میں خلیجی تعاون کونسل کے چھ ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے طویل مدتی سکیورٹی کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر غور کریں گے۔
خلیجی تعاون کونسل میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر اور عمان شامل ہیں۔
لیکن اس اجلاس میں کسی بھی رسمی دفاعی معاہدے کے طے پانے کا امکان نہیں ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واضع طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ بیرونی چیلنجز کے دوران اُن کی حفاظت کرے گا۔
امریکہ ایرانی حملے کو روکنے کے لیے خلیجی ممالک کی جانب سے اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کی بھی حمایت کرے گا۔
امریکہ چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک انسدادِ دہشت گردی کے لیے بہتر حکمتِ عملی مرتب کریں اور سائبر اور میری ٹائم سکیورٹی میں تعاون کرنے کے لیے مشترکہ فوجی مشقیں کی جائیں۔
No comments:
Post a Comment